چلتی ٹرین میں بیٹھ کر غیر مسلموں میں دین کی دعوت ( دوسری قسط)
چلتی ٹرین میں بیٹھ کر غیر مسلموں میں دین کی دعوت (دوسری قسط) پہلی قسط میں تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ ایک عیسائی بھائی کے سامنے میں نے کیسے دین کی دعوت پیش کیا اور ان سے کیا کیا باتیں ہوئی تھی، دوسری قسط میں خصوصی طور پر تذکرہ ہوگا سناتن دھرم کے پیروکار دو نوجوان کا ، اسی سفر میں میرے سیٹ کے سامنے دو بیٹھے ہوئے تھے، جب میں نے عیسائی آدمی سے دھرم کے موضوعات پر بات کرنا شروع کیا تو وہ دونوں بھی ہمارے باتوں میں دلچسپی لینے لگے، میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور ان دونوں کو بھی اسلام کی دعوت دے دی، ہم نے ان سے درجنوں سوالات کیا، لیکن ان کا جواب تھا کہ ہمارے دھرم گروؤں نے ہمیں دھرم کے معاملے میں اندھیرے میں رکھا ہے، ان سے سوال کیا کہ بھائی! آپ لوگ مورتی کیوں پوجتے ہیں؟ یہ مورتیاں بھگوان کیسے ہو سکتا جبکہ وہ انسانوں کا محتاج ہے، اور یہ کیسے بھگوان ہیں آپ لوگ انہیں اپنی ہاتھوں سے بناتے ہیں اور بھگوان سمجھ کر انہیں پوجتے ہیں؟ بھگوان تو وہ ہے جو سپریم پاور ہوں، یہ عجیب بات کہ آپ لوگ بذاتِ خود انہیں اپنی ہاتھوں سے بناتے ہیں اور پھر انہیں بھگوان تصور کرکے ان کا پوجا کرتے ہیں، ع...