اہل مدارس اور اساتذہ کا استحصال
اہل مدارس اور اساتذہ کا استحصال
اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس دین کے قلعے ہیں، معاشرہ میں اسلام کی شعاعیں انہی مدارس کی مرہون منت ہیں، بلکہ مدارس کی مثال پاور ہاؤس کی ہے، جس طرح پاور ہاؤس سے معاشرہ میں بجلی سپلائی ہوتی ہے اسی طرح مدارس سے معاشرہ میں دین اور شریعت سپلائی ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ آج ان مدارس پر کچھ ایسے نا اہل ، پڑھا لکھا جاہل، تاناشاہ، متکبر، تملق پسند، ظالم اور جابر لوگوں کا قبضہ ہے، جن سے مدارس کی شبیہ خراب ہو رہی ہے، غیر تو غیر، مدارس کے تئیں مخلص اور محبت رکھنے والے اشخاص بھی ان ذمہ داروں کی روش کی وجہ سے مدارسِ سے دل برداشتہ ہیں، اور اگر مدارس کے اساتذہ کی بات کی جائے تو، میں کہوں گا کہ آج سب سے زیادہ مظلوم قوم مدارس کے اساتذہ ہیں، اور ان پر ظلم کوئی اور نہیں کرتا، وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنے کو شریعت کے ٹھیکیدار کہتے ہیں، ان سے میری مراد مدارس کے ذمہ داراں ہیں، ہاں کچھ ذمہ داراں حساس، امت کے خیر خواہ اور مروت والے ضرور ہیں، وہ یہاں موضوع بحث نہیں، یہاں موضوع بحث صرف وہ ذمہ داراں ہیں جو اپنی نا اہلی کے باوجود ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں، یا اقرباء پرستی یا تملق کی بناء پر انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے، آج مدارس کے ذمہ داروں کے پاس اخلاق، انصاف، مروت، عزت نفس، نام کی کوئی چیز نہیں، ہاں ان کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ ہیں تکبر، عجب نفسی، اخلاقی گراوٹ، تانا شاہی، جھوٹ، دھوکہ،ریاء ونمود، تملق اور اقرباء پرستی، ظلم وغیرہ وغیرہ۔ مدارس کے ذمہ داراں اپنے اساتذہ کی عزت تو دور کی بات، ان کے ساتھ غلام جیسا سلوک کرتے ہیں، وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ عموماً دھوکہ اور مکاری کی روش اختیار کرتے ہیں، اور اپنے اس مجرمانہ فعل کو وہ اپنی کامیابی اور چالاکی سے تعبیر کرتے ہیں، اور بیچارے اساتذہ ذمہ داروں کی مکاری کو سمجھتے ہوئے بھی خاموشی کو صبر کہتے ہیں، حالانکہ یہ صبر نہیں بزدلی ہے۔
اگر اہل مدارس کا رویہ اپنے اساتذہ کے ساتھ ایسا ہی رہا، اور انہوں نے اپنی اصلاح نہیں کی، تو وہ دن دور نہیں کہ - اللّٰہ نہ کرے ایسا ہو - مدارس میں ذی استعداد اور قابل اساتذہ کی قحط سالی آ کر ہی رہے گی
نوٹ: اس تحریر کا مقصد اصلاح اور مدارس کے مستقبل تئیں فکر مندی کا اظہار ہے، کسی مخصوص شخصیت کی تنقید ہرگز نہیں، الا یہ کہ اگر کوئی اس تحریر کے زد میں اپنے آپ کو پاتا ہو، تو وہ اپنی اصلاح کرلیں، یہی مطلوب و مقصود ہے۔
Comments
Post a Comment