چلتی ٹرین میں بیٹھ کر غیر مسلموں میں دین کی دعوت

   چلتی ٹرین میں بیٹھ کر غیر مسلموں میں دین کی دعوت

از: ابو عبداللہ عبد الرقیب ندوی، نائب امیر ضلعی جمعیت اہلحدیث اتر دیناجپور

گزشتہ 04/05/2023 بروز جمعرات 9بجے سے لیکر 2 بجے دیر شب تک الحمدللہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنے کا موقع ملا، اس سفر میں راقم الحروف تنہا تھا، مغرب بعد چھٹی منظور ہوئی، آنا فانا سامان سفر اٹھایا اور سفر کی دعا زبان سے ادا کرتے ہوئے سفر میں نکل گیا، بذیعہ موٹر سائیکل گڑپا پہنچا،پھر بس پکڑا اور سیالڈہ اسٹیشن پہنچا، جس ٹرین میں جانا تھا وہ ٹرین راقم الحروف کے اسٹیشن پہونچنے 20 منٹ سے پہلے قبل اسٹیشن چھوڑ چکا تھا، خیر ٹکٹ لیا اور کنچن کنیا اسکپریش پکڑا اور اس پر سوار ہوگیا، چونکہ بس کی تاخیر کی بموجب اسٹیشن تاخیر سے پہنچا، 

اپنی عادت کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے ٹرین پلیٹ فارم پر تقریباً 30 منٹ پہلے ہی کھڑی کی جاچکی تھی، پلیٹ فارم پر پہنچا، ٹرین کھچاکھچ بھری ہوئی تھی، کچھ دیر پس و پیش رہا، پھر اللہ پر بھروسہ اور ہمت کرکے ٹرین میں اٹھا اور ادھر اڈھر بحث وتلاش اور کوشش کرکے اپنے لیے بیٹھنے کی حد تک ایک سیٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی، پاس میں میرے قریب ایک عیسائی،اور سامنے دو سناتن دھرمی تھے، میں نے دل ہی دل میں سوچاکہ ان لوگوں پر اسلام کی دعوت پیش کیا جائے، لیکن یہ کیسے؟ یہ کام مشکل تھا، یکایک کسی غیر مسلم کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرنا محال تو نہیں لیکن مشکل ضرور تھا،بہرحال میں موقع کی تلاش میں تھا کہ اچانک میری نظر عیسائی بھائی کے موبائل پر پڑی، دیکھا کہ وہ بائبل کی آیات پڑھ رہے ہیں،میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور بائبل کے حوالے اس سے باتیں شروع کردی، ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ان کا نظریہ جاننے کی کوشش کی اور پھر جب ان کے نظریہ میں تضاد پایا، تو ہم نے ان سے کچھ سوالات کیا اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو صحیح نظریہ ہے ہم نے قرآن کریم کی روشنی میں ان کے سامنے پیش کیا، انہوں نے بہت غور سے سنا،اور میں نے محسوس کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق حقائق سن کر وہ ہکابکا اور ششدر رہ گیا، عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ان کا عقیدہ جیساکہ انہوں نے بتایا: عیسیٰ علیہ السلام ہی اللّٰہ ہیں، انسان کی شکل میں دنیا میں آئے، یہودیوں نے سازش کرکے انہیں قتل کر کے صلیب پر لٹکا دیا، پھر دوسرا دن انہیں دفن کیا گیا، اور پھر تیسرا دن عیسیٰ مسیح اپنے قبر سے زندہ نکل گیا،اور پھر وہ آسمان پر چلے گئے، یہ منظر وہاں موجود سیکڑوں لوگوں نے دیکھا، مزید ان کا دعویٰ ہے کہ وہ قبر آج تک ویسے ہی کھلی ہوئی ہے، یہ تو ان کا عقیدہ انہوں نے بیان کیا اور بتایا۔

میں نے سنجیدگی، متانت اور غور ان کی باتوں کو سنا، اور ایک ایک کرکے ڈھیروں سوالات ان کے سامنے رکھا، انہوں نے اپنی علمی بساط تک جواب دینے کی کوششیں کی لیکن تسلی اور تشفی بخش جواب دینے سے قاصر رہا۔ میں نے پھر انہیں ان کے موبائل میں موجود بائبل ایپ کی روشنی میں آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اور علامات اور اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور شہادات پر روشنی ڈالا، وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے، کیونکہ یوحنا کی آیات میں واضح طور پر لکھا ہے کہ" 

 यूहन्ना 14:16 "और मैं पिता से प्रार्थना करूंगा, और वह तुम्हें एक और दिलासा देने वाला देगा, कि वह सदा तुम्हारे साथ रहे।

यूहन्ना 16:7 "...क्योंकि यदि मैं न जाऊं, तो वह दिलासा देने वाला तुम्हारे पास न आएगा।

بائبل کے شارحین نے وضاحت کیا ہے کہ दिलासा देने वाला

سے مراد پیغمبر ہے،۔

آخیر میں وہ اعتراف کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک نبی کے مبعوث کے لیے اللّٰہ سے دعا کی، لیکن وہ کون ہیں؟ اس سلسلے میں انہیں ان کے پادریوں نے اندھیرے میں رکھا ہے، میں نے قرآن کریم کی روشنی میں بتایا کہ وہ نبی جس کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللّٰہ سے دعا کی، اور بعد جس کے آنے کی بشارتیں دی وہ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، اور بہت سی باتیں ہوئیں، آخیر میں پلے اسٹور سے ان کے موبائل پر قرآن کریم بنگلہ ترجمہ ایپ انہیں ڈاؤن لوڈ کرکے دیا، اس طرح یہ دعوتی کوشش الحمدللہ اختتام تک پہنچی، اللّٰہ اس عیسائی بھائی حقائق کو سمجھنے کی توفیق دے اور اسلام کے لیے اس کے سینے کو کھول دے، اور میری اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور نجات کا ذریعہ بنادے آمین۔

(جاری ......)


Comments

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।

বাংলা ভাষায় ইসলামী সংস্কৃতির প্রভাব।