جدید سائنس وٹیکنالوجی کا اصل محرک و رہبر کون ؟

 


فطری امکانات کے باوجود قدیم زمانہ میں لوگوں کو چاند

تک رسائی نہ ہوسکی،  اس کا اصل سبب شرک تھا یعنی ان کا مخلوق کو خالق سمجھ کر ان کی پرستش کرنا ، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں لوگ شرک میں ڈوبے ہوئے تھے،  انسان دوسری چیزوں کی طرح چاند کو بھی اپنا معبود سمجھتا تھا،  ان کا چاند کو مقدس سمجھ لینا رکاوٹ بن گیا کہ آدمی چاند کو مسخر کرنے کی بات سوچ سکے۔ 

ساتویں صدی عیسوی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام کے ذریعے وہ انقلاب آیا،  جس نے شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر بنا دیا، یہ انقلاب اولا عرب میں آیا ، اور پھر اس کے بعد ایشیا اور افریقہ میں سفر کرتا ہوا یورپ پہنچا ، اور وہ اٹلانٹک کو پار کر کے امریکہ میں داخل ہوگیا۔ 

مسلم دنیا میں انقلاب مذہب کے تحت آیا تھا ، مغربی دنیا نے اپنے حالات کے زیر اثر ،  اس میں  فرق یہ کیا کہ اس کو مذہب سے الگ کر کے ایک سیکولر علم  کے طور پر ترقی دینا شروع کیا،  اور پھر اس کو موجودہ انتہا تک پہنچایا۔ 

توحید کے انقلاب نے فطرت کو تقدس کے مقام سے ہٹا کر ان کی تحقیق اور تسخیر کا دروازہ کھول دیا،  اس طرح تاریخ انسانی میں فطرت کی آزادانہ تحقیق کا ایک نیا دور شروع ہوا ، اور یہ دور ہزار سالہ عمل کے بعد آخرکار جدید سائنس اور جدید ٹیکنالوجی تک پہنچا ، براہ راست یا بالواسطہ جدید سائنس تمام تر  اسلامی انقلاب کی دین ہے 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

ওয়াকফ আইন ও মুসলিম ঐক্য

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।