بنگلہ ادب پر اسلامی تہذیب کے اثرات
بنگلہ ادب پر اسلامی تہذیب کے اثرات عبد الرقیب ندوی، پرنسپل: کلیہ الصالحات الاسلامیہ پھلواری شریف، پٹنہ، بہار۔ تمہید: زبان کوئی بھی ہو، وہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت ورحمت ہوتی ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی ما فی الضمیر کو بحسن وخوبی ادا کرتا ہے، اسی نعمت کے اظہار میں اللّٰہ رب العالمین کا ارشاد ہے:وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِكُمۡ وَاَلۡوَانِكُمۡؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡعٰلِمِيۡنَ۔ ترجمہ: اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے دانش مندوں کیلئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں (الروم: ٢٢). اور انسان کی زندگی میں زبان کی اہمیت بہت زیادہ ہے، زبان کے بغیر انسان گونگا ہے، اپنی ما فی الضمیر ادا کرنے سے قاصر رہتا ہے، اور جب انسان امت دعوت ہو تو زبان کی اہمیت ان کے یہاں اور بھی زیادہ بھر جاتی ہے، اللّٰہ رب العالمین اپنے نبیوں کے سلسلے میں فرماتے ہیں: وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡؕ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآء...