نئے سال کی آمد اور ہم مسلمان

نئے سال کی آمد اور ہم مسلمان
عبد الرقیب ندوی، مغربی بنگال 
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے،  زندگی کے ہر گوشے اور ہر قدم پر انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے، خوشی ہو یا غم ہر موقع کے لیے اسلام میں حدود و قیود اور اصول وضوابط متعین ہیں، اسلام ہی وہ دین ہے جس نے خوشیوں کو منانے اور تہواروں کے دن لطف اندوز ہونے کا صحیح انداز اور مناسب سلیقہ متعارف کرایا ہے،  عن  نبيشة الهذلي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله  عز وجل (صحيح مسلم: 1141) ترجمہ: حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کا دن ہے (صحیح مسلم:1141)،   مسند احمد کی روایت میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من كان صائما فليفطر فانها ايام اكل وشرب ، یعنی ان دنوں جو روزہ رکھے،  اسے چاہے کہ روزہ توڑ دے کیونکہ یہ دن کھانے پینے کے دن ہیں (مسند احمد: 39/451)
الغرض خوشیوں اور تہواروں کے ایام کیسے منائیں ، اس سلسلے میں خود اللہ رب العالمین نے ہماری رہنمائی کی ہے، ارشاد باری تعالی ہے: واذكروا الله في ايام معدودات (البقرة:203) ان متعین اور مخصوص ایام میں اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو (سورہ بقرہ: 203) دوسری جگہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: فاذا قضيتم مناسككم فاذكروا الله كذكركم ابائكم او اشد ذكر (البقرة:٢٠٠) یعنی پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالی کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ (سورہ بقرہ:200)،  اللہ رب العالمین مزید فرماتا ہے: واذن في الناس بالحج ياتوك رجالا وعلى كل ضامر ياتين من كل فج عميق، ليشهدوا منافع لهم ويذكر اسم الله في ايام معلومات على ما رزقهم من بهيمه الانعام فكلوا منها واطعم البائس الفقير (الحج: ٢٧-٢٨)  ترجمہ: اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیادہ بھی ائیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے ائیں گے اپنے فائدے حاصل کرنے کو ا جائیں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں اور ان چوپائیوں پر جو پالتو ہیں پس تم اپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ ( سورہ حج: 27-28)
بات بالکل واضح ہو گئی کہ خوشی کے ایام اور تہواروں کے دن  کھانے پینے، لطف اندوز ہونے اور خوشیوں کو بانٹنے، نیکی کرنے اور برائیوں سے دور رہنے،  اور اللہ رب العالمین کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کا دن ہوتا ہے، لیکن لوگوں میں بگاڑ اور ایمان میں فساد آنے کی وجہ سے تہواروں میں ایسی ایسی خرافات اور بدعات شامل ہو گئی ہیں کہ  تہواروں کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
ستم ظریفی تو یہ کہ جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی انسانوں نے اپنے ضعف ایمان اور سماجی بگاڑ کی وجہ سے کلچر اور فیشن کے نام سے نت نئے جشن اور تہوار وضع کیے، انہی میں سے ایک تہوار نئے سال کا جشن بھی ہے، اور نئے سال کی آمد پر جشن منانا یہودی، نصاری اور غیر مسلموں کا شیوہ ہے، مسلمانوں کے پاس اپنا قمری اسلامی نظام تاریخ ہے جس میں سال کا اغاز جنوری سے نہیں بلکہ محرم الحرام سے ہوتا ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ سے مربوط ہے ، جسے ہم اسلامی کیلنڈر کہتے ہیں، لیکن افسوس کے ہم میں سے اکثر اس اسلامی نظام تاریخ سے نابلد ہیں ، بلکہ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ آج مسلمان غیروں کی تہذیب کے اس قدر دلدل میں پھس چکے ہیں کہ عوام کو تو چھوڑیں، خواص بھی اپنی نظام تاریخ سے ناواقف نظر آتے ہیں -
چونکہ ہم مسلمان ہیں، ہمارا اپنا مستقل ایک کلچر ہے، جو دنیا کے تمام اقوام و ملل کے کلچروں اور تہذیبوں سے کلی طور پر مختلف، جدا گانہ اور امتیازی خصوصیات کے حامل ہے، ہمیں غیروں کے کلچر و تہذیب کی قطع ضرورت نہیں بلکہ غیروں کے کلچر اور تہذیب کی اتباع اور مشابہت پر سخت وعید آئی ہے ،جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تشبه بقوم فهو منهم یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے ( سنن ابو داؤد : 4031 اور امام ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے)
عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم السبت ويوم الاحد اكثر مما يصوم من الايام ويقول انھما یوما عید المشركين فانا احب ان اخالفهم ( مسند احمد: 26750)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر سنیچر اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور فرماتے:  یہ دونوں دن مشرکین کے عید (خوشی) کے ایام ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان دنوں میں روزہ رکھ کر ان کی مخالفت کروں (مسند احمد: 26750)
نئے سال کی آمد سے لوگ طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، بالخصوص نوجوان طبقہ خوشی میں بالکل آپے سے باہر آجاتے ہیں،  رقص و سرور کی ہوش ربا محفلیں سجائی جاتی ہیں، اور یہ محفلیں  عموماً دو چیزوں ہی سے مکمل ہوتی ہیں، ایک: شراب اور دوسرا: عورت،  رات کے 12 بجتے ہی کروڑوں روپے کی آتش بازی، نئے سال کی جشن میں گھر، دکان اور پورے ملک کو رنگ برنگی لائٹوں اور قمقموں سے سجایا جاتا ہے، سڑکوں پر اودھم مچایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
غیروں کی نقالی اور نقش قدم پر چلتے ہوئے افسوس کہ آج مسلمان بھی نئے سال کی آمد پر جشن مناتا ہے ،کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد نے اس کی زندگی کا ایک برس کم کر دیا ، زندگی اللہ رب العالمین کی عطا کردہ ایک بیس بہا اور قیمتی نعمت ہے اور نعمتوں کے زوال پر جشن نہیں بلکہ افسوس کیا جاتا ہے، شاعر کہتا ہے:
غافل تجھے گھڑیاں یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر، جس کا سورج غروب ہو گیا، جس میں میرا ایک دن کم ہو گیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہو سکا  ( قيمة الزمن عند العلماء ص: ٢٧) حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ ابن ادم تو ایام کا مجموعہ ہے جب ایک دن گزر گیا تو یوں سمجھ تیرا ایک حصہ گزر گیا  ( قيمة الزمن عند العلماء ص: ٢٧)
نئے سال کی آمد پر ہم کیا کریں:  نئے سال کی آمد پر ہم ایک دوسرے کو مبارکبادی کے بجائے دعائیں دیں، المعجم الاوسط کی روایت ہے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ (المعجم الاوسط للطبراني: 6/221) ترجمہ: اےاللہ!  اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن و ایمان ،سلامتی اور اسلام اور اپنی رضامندی، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔
ماضی کا احتساب: نئے سال کی آمد پر خوشی نہیں بلکہ ہمیں اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا،  مسند احمد کی روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا یعنی تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے ( مسند احمد  ، کتا ب الزھد: 633)
اور وقت اور مہلت کو غنیمت جان کر نیکی اور مغفرت کے اعمال میں جلدی کرنا چاہیے، اللہ رب العالمین نے فرمایا: وَأنْفِقُوْا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ أنْ یَأتِيَ أحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ أخَّرْتَنِيْ إلیٰ أجَلٍ قَرِیْبٍ فَأصَّدَّقَ وَأکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ، وَلَنْ یُّوٴَخِّرَ اللہُ نَفْسًا إذَا جَاءَ أجَلُھَا وَاللہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاوٴں ۔ اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالی ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالی اچھی طرح باخبر ہے۔ (سورہ منافقوں: 10-11)
مستقبل کے لیے مضبوط اور مستحکم لائحہ عمل تیار کرنا:   انسا ن  کو چاہیے کہ خود احتسابی اور جائزے کے بعد بہترین مستقبل کی تعمیر و تشکیل کے لیے مضبوط و مستحکم لاحق عمل تیار کریں،  جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ، وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ۔  ترجمہ:  پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جانو!  اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،  اپنی صحت و تندرستی کو  بیماری سے پہلے،  مالداری کو فقر و فاقہ سے پہلے،  خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے،  زندگی کو موت سے پہلے ( صحیح الترغیب : 3355)  
خلاصہ کلام:  نئے سال کی آمد پر جشن منانا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ یہ جشن عیسائیوں کی ایجاد ہے، مسلمانوں کو غیروں کی مشابہت اور کلچر قبول کرنے سے کلی اجتناب کرنے کا حکم ہے، ہمیں نئے سال کی آمد پر خوشی نہیں بلکہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے بہترین مستقبل کی تعمیر و تشکیل کے لیے مضبوط و مستحمل لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔
دعا ہے اللہ تعالی ہم مسلمانوں کو غیروں کی تہذیب و تمدن سے کلی اجتناب کرنے اور کما حقہ اسلامی شریعت کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے ،آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।

বাংলা ভাষায় ইসলামী সংস্কৃতির প্রভাব।