مایوسی کفر ہے


 

 جو مایوسی کو پال لے اسے کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں ۔ 

 قرآن  حکیم نے صاف طور پر فرمایا : 

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( سورہ الزمر آیت نمبر : 53 ) 

کہہ دو ،  اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دے گا، بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے۔ 

انسان مایوس اس وقت ہوتا ہے جب اسے رب کی رحمت پر یقین نہیں ہوتا،  ہماری زندگی میں مایوسی کی کوئی حیثیت نہیں، مایوسی ہمارا دشمن ہے جو ہمیں بار بار پست کرنے اور شکست دینے کی کوشش کر تی ہے، لیکن ہم مؤمنوں کو چاہیے کہ مایوسی کے لمحات میں بھی رب کی رحمت پر کامل یقین رکھے ۔

 انبیاء اور صلحاء کی زندگی کو دیکھیں تو سخت ترین حالات میں بھی وہ مایوسی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے، کیونکہ انہیں اللہ کی ذات پر کامل یقین ہوتا تھا، اگر آج بھی ہمیں اللہ کی ذات پر کامل یقین ہو جائے، تو مایوسی ہمارے قریب نہیں آسکتی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।

বাংলা ভাষায় ইসলামী সংস্কৃতির প্রভাব।