کیا کسی صحابی نےقرآن مجید میں آیتیں بڑھادی ؟
رافضی وسیم رضوی کہتا ہے کہ: ابو بکر وعمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین نے قرآن مجید میں اضافہ کردیا، تو سوال یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے ان تینوں صحابہ کرام کی شہ رگ کیوں نہیں کاٹ دی؟
کیوں اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِلَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَفَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حاجِزينَ﴾
[الحاقة: ٤٤-٤)
ترجمہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نے ہمارے خلاف کوئی بات اپنی جانب سے گھڑنے کی کوشش تو ہم آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی شہ رگ کاٹ دیں گے، اور آپ کو کوئی بچانے بھی نہیں آئے گا
جب اللہ رب العالمین قرآن مجید میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اضافہ کو بردا شت نہیں کر سکتا، اور اضافہ کی صورت میں قتل کی وعید دے رہا ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اگر اضافہ کرتے تو اللہ رب انہیں کیسے چھوڑ دیتا؟
Comments
Post a Comment