اہل مدارس کے نام ایک پیغام
ہندوستانی مدارس کی بڑی خدمات ہیں۔۔ہر سال ہزاروں عالم،حافظ ،قاری،مصنف،مقرر،
مدبر،مفکر، منتظم ان ہی مدارس سے فارغ ہوتے ہیں اور ملک و ملت کی خدمت انجام دیتے ہیں۔۔
کیا ہی بہتر ہوتا اہل مدارس ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ادارے سے منسلک غیر تعلیمی عملہ مثلآ چپڑاسی ، گیٹ مین ، مالی ، باورچی ، چھاڑو پوچھا کرنے والے افراد ، کلرک ، ڈرائیور وغیرہ وغیرہ کی تعلیم وترتیب کا بھی مختصر خیال رکھتے،
بڑے ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عام طور سے تعلیمی اداروں میں ان افراد کی تعلیم اور اسلامی تربیت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔۔حالانکہ علماء و طلبہ کا واسطہ و رابطہ ان سے براہ راست ہوتا رہتا ہے۔۔۔انہیں کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں، ان ہی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے ۔۔۔اگر ان سے خدمت میں کچھ کوتاہی ہو جائے تو تنبیہ بھی کی جاتی ہے۔
جس طرح وہ ہمارے دنیاوی آرام و راحت کا خیال رکھتے ہیں اگر ہم اپنے علم و فضل کا کچھ حصہ دے کر ان کے ایمان و عمل کو درست کرنے کی کوشش کریں۔۔تو امید ہے کہ ہمارے لئے بھی ذخیرۂ آخرت ہوگا۔۔
اگر یہ لوگ قیامت کے روز ہمارا دامن پکڑ لیں کہ ان لوگوں نے پوری دنیا میں ایمان و علم کی شمعیں روشن کیں لیکن ہم کو اس نور سے محروم رکھا۔۔اس دن ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔۔تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور ذمہ داروں کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اللہ توفیق سے نوازے۔۔آمین
جزاكم الله خيرا
ReplyDelete