تعلیمی نظام کی تباہی قوم کی تباہی ہے




تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، قوموں کی ترقی وتنزلی تعلیم پر منحصر ہے، تعلیم ہے تو ، تعلیم انسان کی روح ہےزندگی ہے، بغیرتعلیم انسان مردہ ہے

 افسوس صد افسوس  آج نظام تعلیم سے متعلق مسلمانوں میں غیر معمولی بے اعتنائی اور لاپرواہی برتی جارہی ہے اتنا ہی نہیں بلکہ  مسلم سماج میں اعلیٰ و تعلیم گاہ کا قبیح منظر بھی دیکھنے  کو ملتا ہے۔ بالخصوص بہار ،بنگال اور جھارکھنڈ یہ وہ ریاستیں ہیں جس میں مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی مخصوص میڈیکل کالج یا انجینئرنگ کالج یا ٹیکنیکل کالج نہیں اور نہ ہی مسلم بچوں کو صنعت وحرفت اور نہ دست ہنر   سے کوئی مطلب ! بس مسلمانوں کے پاس گنے چنے چند مدارس ہیں ان میں سے اکثر مدارس اپنی کوئی امتیازی شان اور پہچان تک نہیں رکھتے اور نہ ہی ذمہ داران قیام مدارس کے اغراض ومقاصد سے واقف بھی   انکے پاس صرف ایک فرسودہ نظام تعلیم ہوتا ہے جو لاٹھی اور ڈنڈا سے چلتا ہے اور اسی سے،، كيف ما اتفق،،  تعلیم وتربیت کے دُشوار کن مراحل طئے  کیا جاتا ہے لیکن بعد میں بچوں کے لئے سماج میں جینا مشکل  ہی نہیں بلکہ ناممکن دیکھائی دیتا ہے کیونکہ انہیں مدارس سے فارغ شدہ بچوں کا ایک بڑا طبقہ علمی ، ایمانی اوراخلاقی دولت سے محروم ہوتا ہے 

حیرت اور غیرت کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب ذمہ داران مدارس کو احساس وشعور تک نہیں ہوتا وہ اپنی ساری سوچ و فکر قوت و توانائی  کہاں لگائیں ؟ افسوس صد افسوس ! وہ صرف سالانہ جلسوں  کے انعقاد اور سالانہ مٹینگ کی طلب اسی طرح شبینہ جلسوں  پر کھپاتے ہیں یہ وہ امور ہیں جو تعلیم کے باب میں ثانوی درجہ رکھتے ہیں  

 یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے کہا تھا،، گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدارس نے تیرا ،،

قارئین کرام : نظام تعلیم وقت کا نہایت ہی حساس موضوع ہے بس یہ معلوم رہے کہ کسی قوم کو تباہ کرنے کیلئے ایٹم بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلز کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے نظام تعلیم کا معیار گرا دو طلبہ اور طالبات کو امتحانات میں نقل کرنے کی اجازت دے دو  وہ قوم خود تباہ ہو جاےگی  

اس ناکارہ نظام تعلیم سے نکلنے والےڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے انجینئر کے ہاتھوں عمارت تباہ ہوجائے گی معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہو جائے گی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہوجائے گی ججز کے ہاتھوں انصاف کاقتل ہوجائےگا   

قارئین کرام : ہم مسلمان اپنے اپنے دل سے فیصلہ کریں کہ اب تک ان مدرسوں نے سماج کو کیا دیا ؟ اور  انہیں کیا دینا چاہئے ؟ کیا مدارس اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ؟ یقینا جواب اپکی سوچ اور فکر کے خلاف ملے گا 

قارئین کرام : آج کے اس ترقی یافتہ دور میں  ہمیں اپنی ترجیحات کے اندر تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے ہمیں جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال بچوں میں عام کرنا ہے 

قارئین کرام :  نظام تعلیم میں ہم جو اصلاح چاہتے ہیں وہ صرف یہ کہ معلم مربی بن جائے وہ تربیت کا کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑے - اگر ہم یہ مقصد حاصل کرلیں تو ہم اس منزل تک پہنچ جا ئیں گے جہاں تک ہم پہنچنا چاہتے ہیں ہماری ابتدائی اور ثانوی تعلیم ایک اچھے معیار کی حامل ہوجائے گی پھر تعلیم مفید اور ثمر بخش بھی

اسی کی بدولت ہم وہ زندگی بسر کر سکیں گے جو کسی کا بھی منتہائے نظر ہو سکتی ہے

لہذا ہمیں سختی کے بجائے نرمی ، نفرت کے بجائے الفت ومحبت ، دوری کے بجائے اپنائیت سے اور ڈنڈا کے بجائے انڈا سے کام لینا ہے 

 ساتھ ساتھ بچوں کی طبیعت اور رغبت بھی ملحوظ رہے 

اللہ تعالی ہم سب کو مثبت سوچ وفکر عطاء فرمائے 

Comments

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।

বাংলা ভাষায় ইসলামী সংস্কৃতির প্রভাব।