جہیز کی رسم بد اور ہم علماء کرام کی ذمہ داری

 


ہند وپاک اور بنگلہ دیش کے طول وعرض میں لاکھوں

علماءہیں  پائے جاتے ہیں،  اور ان کے پاس بھی نرینہ اولاد ہیں ، اگر شمار کیا جائے تو ان کی تعداد کئی لاکھوں میں ہوگی،  

 ذرا تصوّر کیجئے کہ ہم علماء کرام منبر ومحراب کے علمبردار  اگر  شادی بیاہ میں غیر شرعی  رسومات جیسے جہیز و بارات وغیرہ وغیرہ سے ہٹ کر اپنے بچوں کی شادی سادگی اور اسلامی طرز پر  کریں تو یقیناً سماج میں  ایک خوبصورت نمونہ قائم ہوگا  اور دنیا کو ایک خوبصورت پیغام جائےگا، جوبات  ہم ممبر ومحراب  اور اسٹیج سے کہتے ہیں اگر شادی میں خود اپنی اولاد پر فٹ کریں  تو سماج  سے غیر شرعی رسومات ان شاءاللہ آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی ، اور سنتی نکاح ازسر نو معاشرے میں رائج ہوگا ۔

Comments

Popular posts from this blog

ভারত বর্ষের স্বাধীনতা সংগ্রামে শেরশাহবাদি সম্প্রদায়ের অবদান। আব্দুর রাকিব নাদভী

শান্তি প্রতিষ্ঠায় বিশ্বনবী মুহাম্মদ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম এর ভূমিকা।

বাংলা ভাষায় ইসলামী সংস্কৃতির প্রভাব।